یہاں وہ کھانے ہیں جو پاکستانی گھروں میں پہلے ہی بنتے ہیں، تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ: تیل کم، سبزی زیادہ، رنگ زیادہ۔ ہر ترکیب کے ساتھ لکھا ہے کہ ہاتھ کیا کام کرتے ہیں اور پلیٹ میں کون سے غذائی اجزا آتے ہیں۔ یہ کسی بیماری کی خوراک نہیں، روزمرہ کی متوازن غذا کی مثالیں ہیں۔
ترکیب سے پہلے
چولہا جلانے سے پہلے دو ضروری باتیں
ایک بات غذا کی ہے، دوسری باورچی خانے کی حفاظت کی۔ دونوں اُتنی ہی اہم ہیں جتنی کوئی ترکیب۔
غذا بدلنے سے پہلے ڈاکٹر سے پوچھیں اگر
گردوں کی کوئی بیماری ہو؛ پروٹین، دودھ اور کچھ سبزیوں کی مقدار پر خاص ہدایات ہو سکتی ہیں
شوگر ہو؛ دلیے، پھل اور چاول کی مقدار ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت کے ساتھ طے کریں
نقرس (گاؤٹ) ہو؛ کچھ دالوں، گوشت اور مچھلی کے بارے میں ڈاکٹر کی رائے لیں
خون پتلا کرنے کی دوا لیتے ہوں؛ سبز پتوں والی سبزیوں کی مقدار اچانک بہت نہ بدلیں
حمل ہو، بچوں یا بزرگوں کے لیے کھانا ہو، یا کسی چیز سے الرجی ہو (دودھ، میوے، مچھلی)
ہلدی یا کسی اور چیز کے کیپسول لینے کا سوچ رہے ہوں؛ ہانڈی کی ہلدی اور سپلیمنٹ ایک چیز نہیں
باورچی خانے کی حفاظت
تیز چھری کند چھری سے محفوظ ہے؛ کاٹتے وقت انگلیاں اندر کی طرف موڑیں
گرم تیل میں گیلی چیز آہستہ ڈالیں اور ہانڈی کا دستہ اندر کی طرف رکھیں
پریشر ککر کھولنے سے پہلے بھاپ پوری نکلنے دیں
بھاری دیگچی دونوں ہاتھوں سے اٹھائیں یا کسی سے مدد لیں
فرش پر پانی یا تیل گرے تو فوراً صاف کریں
جلنے یا گہری چوٹ کی صورت میں 1122 پر کال کریں
چھ ترکیبیں
کتاب کے صفحے: ہاتھوں کا کام اور پلیٹ کا حساب
مقداریں چار افراد کے حساب سے ہیں۔ نمک اور مرچ اپنے گھر کے ذائقے کے مطابق، مگر نمک ہلکا ہاتھ رکھ کر۔
01Masoor
دوپہر کا کھانا ❖ تقریباً 40 منٹ
پالک والی مسور دال
اجزا
مسور کی دال: ایک کپ، دھلی ہوئی
پالک: ایک گٹھی، باریک کٹی
پیاز ایک، ٹماٹر دو
لہسن ادرک: ایک چمچ
ہلدی آدھا چمچ، زیرہ ایک چمچ
تیل: ایک کھانے کا چمچ
طریقہ
دال کو ہلدی اور تین کپ پانی میں نرم ہونے تک پکائیں۔
اس دوران پالک، پیاز اور ٹماٹر کاٹ لیں۔
تھوڑے تیل میں زیرہ، پیاز، لہسن ادرک اور ٹماٹر بھونیں۔
پالک ڈال کر دو منٹ پکائیں، پھر دال میں ملا کر پانچ منٹ دم دیں۔
ہاتھ
پالک کی گٹھی کاٹنا، ٹماٹر کے ٹکڑے، اور ہانڈی میں دیر تک چمچ چلانا۔
پلیٹ
دال سے پودوں والا پروٹین اور فائبر، پالک سے وٹامن K اور فولیٹ۔
رات کا کھانا ❖ تقریباً 30 منٹ اور آدھا گھنٹہ مصالحہ لگا کر
لیموں اور دہی والی توے کی مچھلی
اجزا
مچھلی کے قتلے: آدھا کلو (رہو، سرمئی یا جو تازہ ملے)
دہی: آدھا کپ
ایک لیموں کا رس
لہسن ادرک، ہلدی، تھوڑی لال مرچ
تیل: ایک کھانے کا چمچ
طریقہ
دہی، لیموں اور مسالے ملا کر مچھلی پر لگائیں اور آدھا گھنٹہ رکھیں۔
نان اسٹک توے پر تھوڑا تیل گرم کریں۔
قتلے دونوں طرف درمیانی آنچ پر پکائیں جب تک اندر سے سفید اور نرم ہو جائیں۔
سلاد اور لیموں کے ٹکڑے کے ساتھ پیش کریں۔
ہاتھ
انگلیوں سے مسالہ لگانا اور لیموں نچوڑنا؛ انگلیوں میں تکلیف ہو تو لیموں نچوڑنے والا استعمال کریں۔ کچی مچھلی کے بعد ہاتھ ضرور دھوئیں۔
پلیٹ
پروٹین؛ چکنائی والی مچھلی میں اومیگا-3 اور کچھ وٹامن D، جن کے کردار پر تحقیق جاری ہے۔
رات کا کھانا ❖ تقریباً 25 منٹ
ملی جلی سبزی کی بھجیا
اجزا
گوبھی، گاجر، شملہ مرچ، مٹر: کل ملا کر چار کپ
کھمبیاں (اگر ملیں): ایک کپ
پیاز ایک، ہری مرچ ایک
زیرہ، ہلدی، کالی مرچ
تیل: ایک کھانے کا چمچ
طریقہ
سبزیاں تقریباً ایک جیسے سائز میں کاٹیں تاکہ ساتھ گلیں۔
تیل میں زیرہ اور پیاز ہلکا سنہری کریں۔
سخت سبزیاں پہلے، نرم بعد میں ڈالیں؛ تیز آنچ پر ہلاتے رہیں۔
سبزیاں ہلکی سی کرکری رہیں تو آنچ بند کر دیں۔
ہاتھ
مختلف شکلوں میں کاٹنا انگلیوں کا اچھا کام ہے۔ کڑاہی بھاری ہو تو اٹھا کر نہ اچھالیں، چمچ سے ہلائیں۔
پلیٹ
کئی رنگ یعنی کئی وٹامن اور معدنیات؛ شملہ مرچ میں وٹامن C، گاجر میں وٹامن A۔
شام کی چائے ❖ تقریباً 15 منٹ، ابلے چنوں کے ساتھ
کینو والی چنا چاٹ
اجزا
ابلے ہوئے سفید چنے: دو کپ
کینو کی دو قاشیں یا امرود کے ٹکڑے
پیاز، ٹماٹر، کھیرا: ایک ایک
پودینہ، ہرا دھنیا، ایک لیموں
چاٹ مسالہ اور بھنا زیرہ
طریقہ
پیاز، ٹماٹر اور کھیرا چھوٹے چوکور ٹکڑوں میں کاٹیں۔
کینو چھیل کر قاشوں کے ٹکڑے کریں اور بیج نکال دیں۔
سب کچھ چنوں میں ملائیں، لیموں اور مسالہ ڈالیں۔
آخر میں پودینہ اور دھنیا اوپر چھڑکیں۔
ہاتھ
کینو چھیلنا اور قاشیں الگ کرنا انگلیوں اور انگوٹھے کا باریک کام ہے؛ بیٹھ کر آرام سے کریں۔
پلیٹ
چنوں سے پروٹین اور فائبر؛ کینو اور لیموں سے وٹامن C، جو کولیجن بننے کے معمول کے عمل میں شامل ہے۔
ناشتہ ❖ تقریباً 20 منٹ
اخروٹ بادام والا دلیہ
اجزا
گندم کا دلیہ یا جئی: ایک کپ
دودھ: تین کپ (یا آدھا دودھ آدھا پانی)
اخروٹ اور بادام: ایک مٹھی
ایک چمچ السی کے بیج، پسے ہوئے
الائچی؛ مٹھاس کے لیے کھجور یا تھوڑا گڑ
طریقہ
دلیے کو خشک کڑاہی میں دو منٹ بھون لیں۔
دودھ اور الائچی ڈال کر دھیمی آنچ پر گاڑھا ہونے تک پکائیں۔
میوے موٹے موٹے کوٹ لیں یا کاٹ لیں۔
اوپر میوے اور السی ڈال کر گرم پیش کریں۔
ہاتھ
ہاون دستے میں میوے کوٹنا کلائی اور بازو کی ہلکی حرکت ہے؛ زور سے نہیں، ہلکی ضربوں سے۔
پلیٹ
دودھ سے کیلشیم اور پروٹین؛ اخروٹ اور السی سے پودوں والا اومیگا-3؛ ثابت اناج سے فائبر۔
06Raita
ہر کھانے کے ساتھ ❖ تقریباً 10 منٹ
کھیرا پودینہ رائتہ
اجزا
گاڑھا دہی: دو کپ
کھیرا: ایک بڑا، کدوکش کیا ہوا
پودینے کے پتے: ایک مٹھی
بھنا ہوا زیرہ اور تھوڑا نمک
طریقہ
دہی کو پھینٹ کر ہموار کر لیں۔
کھیرا کدوکش کرکے ہلکا سا نچوڑ لیں۔
پودینہ باریک کاٹیں اور سب کچھ ملا دیں۔
اوپر زیرہ چھڑک کر ٹھنڈا پیش کریں۔
ہاتھ
دہی پھینٹنا کلائی کی تیز مگر ہلکی حرکت ہے؛ کدوکش کرتے ہوئے آخری ٹکڑا چھوڑ دیں تاکہ انگلیاں محفوظ رہیں۔
پلیٹ
دہی سے کیلشیم اور پروٹین؛ گرمیوں میں کھیرا پانی کی کمی پوری کرنے میں ساتھ دیتا ہے۔
غذائی اجزا کا کھاتہ
کس جزو کا کیا کام، اور وہ ہماری الماری میں کہاں ہے
یہ جدول معمول کے جسمانی کاموں کی بات کرتی ہے، علاج کی نہیں۔ اگر آپ کو کسی جزو کی کمی کا شک ہو تو اندازے کے بجائے ڈاکٹر سے ٹیسٹ کے بارے میں پوچھیں۔
جزو
پاکستانی باورچی خانے میں کہاں
جسم میں معمول کا کردار
کیلشیم
دودھ، دہی، پنیر، تل، سبز پتوں والی سبزیاں، چھوٹی ہڈیوں سمیت کھائی جانے والی مچھلی
ہڈیوں کی معمول کی دیکھ بھال اور پٹھوں کا کام
وٹامن D
جلد پر دھوپ پڑنے سے بنتا ہے؛ چکنائی والی مچھلی اور انڈے کی زردی میں بھی کچھ مقدار
کیلشیم کے جذب ہونے اور ہڈیوں و پٹھوں کے معمول کے کام میں شامل
پروٹین
دالیں، چنے، لوبیا، انڈے، مچھلی، مرغی، دہی
پٹھوں کی تعمیر اور دیکھ بھال؛ مضبوط پٹھے جوڑوں کو سہارا دیتے ہیں
وٹامن C
کینو، امرود، لیموں، ٹماٹر، شملہ مرچ، ہری مرچ
کولیجن بننے کا معمول کا عمل، جو کارٹلیج اور ہڈیوں کے لیے ضروری ہے
اومیگا-3 چکنائیاں
سارڈین، سالمن اور دیگر چکنائی والی مچھلیاں؛ اخروٹ اور السی میں پودوں والی قسم
دل کے معمول کے کام میں شامل؛ سوزش سے تعلق پر تحقیق جاری ہے
میگنیشیم
بادام، کدو کے بیج، ثابت اناج، پالک، دالیں
پٹھوں کا معمول کا کام اور ہڈیوں کی دیکھ بھال
وٹامن K
پالک، سرسوں کا ساگ، میتھی، بند گوبھی
ہڈیوں کی معمول کی دیکھ بھال
فائبر
چوکر والا آٹا، دلیہ، دالیں، سبزیاں، پھل
پیٹ بھرا رہنے کا احساس؛ مناسب وزن برقرار رکھنے میں مددگار، جو گھٹنوں اور کولہوں پر بوجھ سے جڑا ہے
❖
ہفتے کا مینو
چھ ترکیبیں اور گھر کے دوسرے کھانے، سات دنوں میں۔ یہ صرف ایک مثال ہے؛ اپنے گھر کی پسند اور موسم کے مطابق بدلیں۔
دوپہررات
پیر
پالک والی مسور دال، چپاتی
سبزی کی بھجیا، رائتہ
منگل
کینو والی چنا چاٹ، دہی
توے کی مچھلی، سلاد
بدھ
ماش یا لوبیا کی دال، تھوڑے چاول
لوکی کی سبزی، چپاتی
جمعرات
انڈا بھرجی، ٹماٹر اور ہری مرچ کے ساتھ
کم تیل کی چکن کڑاہی، سلاد
جمعہ
یخنی پلاؤ کی چھوٹی پلیٹ، رائتہ
مونگ کی دال، ملی جلی سبزی
ہفتہ
سرسوں کا ساگ، مکئی کی روٹی (موسم میں)
دلیہ یا مونگ کی کھچڑی
اتوار
گھر والوں کے ساتھ مچھلی یا مرغی
ہلکی سبزی اور موسمی پھل
ناشتے میں دلیہ، انڈا یا دہی؛ شام کو پھل یا مٹھی بھر میوے۔ اتوار کو سب مل کر پکائیں تو کام بھی بٹتا ہے اور حرکت بھی۔
دسترخوان کی باتیں
جو بڑے کہتے ہیں، اور جو اب تک معلوم ہے
گھروں میں جوڑوں اور کھانے کے بارے میں بہت سی باتیں سنی جاتی ہیں۔ کچھ میں ذائقے کی سچائی ہے، کچھ میں صرف عادت کی۔
“کھٹی چیزیں جوڑوں کو نقصان دیتی ہیں”
جو معلوم ہے
لیموں، کینو اور امرود جیسی چیزیں وٹامن C دیتی ہیں اور زیادہ تر لوگوں کے لیے متوازن غذا کا حصہ ہیں۔ اگر کسی خاص چیز سے آپ کو تکلیف محسوس ہوتی ہو تو ڈاکٹر سے ذکر کریں۔
“ہلدی والا دودھ جوڑوں کا علاج ہے”
جو معلوم ہے
ہلدی والا دودھ سردیوں کا ایک آرام دہ مشروب ہے۔ ہلدی کے ایک جزو پر تحقیق جاری ہے، مگر یہ کسی بیماری کا علاج نہیں، اور کیپسول کی شکل ہانڈی کی ہلدی سے مختلف ہے۔
“پائے کھانے سے جوڑ مضبوط ہو جاتے ہیں”
جو معلوم ہے
پائے میں جیلاٹین والا پروٹین ہوتا ہے، جسے جسم باقی پروٹین کی طرح توڑتا ہے؛ یہ سیدھا جوڑوں تک نہیں جاتا۔ یہ چکنائی اور نمک والا کھانا ہے، کبھی کبھار کے لیے۔
“بڑی عمر میں دودھ کی ضرورت نہیں رہتی”
جو معلوم ہے
کیلشیم کی ضرورت پوری عمر رہتی ہے۔ دودھ ہضم نہ ہو تو دہی، پنیر، تل اور سبز پتے بھی کیلشیم دیتے ہیں؛ اپنی ضرورت ڈاکٹر سے پوچھیں۔
قارئین پوچھتے ہیں
عام سوال، سیدھے جواب
جو سوال یہاں نہیں ملا، وہ رابطے کے صفحے سے بھیجیں؛ ذاتی طبی سوال اپنے ڈاکٹر سے پوچھیں۔
01کیا یہ ترکیبیں دوا یا علاج کی جگہ لے سکتی ہیں؟
نہیں۔ یہ متوازن غذا کی مثالیں ہیں۔ جوڑوں کی کسی بیماری کی دوا، فزیوتھراپی یا ڈاکٹر کی دی ہوئی ہدایت کو کسی کھانے سے نہ بدلیں، اور کوئی دوا اپنی مرضی سے نہ چھوڑیں۔
02اگر پکاتے ہوئے ہاتھ، کلائی یا کمر میں تکلیف ہو تو کیا کروں؟
کام وہیں روک دیں اور آرام کریں۔ کام چھوٹے حصوں میں بانٹیں، بیٹھ کر کاٹیں اور بھاری برتن کسی سے اٹھوائیں۔ اگر تکلیف بار بار ہو یا دور نہ ہو تو ڈاکٹر کو دکھائیں۔
03مجھے کب ڈاکٹر یا ماہر سے ملنا چاہیے؟
جب جوڑ سوج جائے، سرخ یا گرم ہو، صبح کی اکڑن دیر تک رہے، درد رات کو جگائے، بخار کے ساتھ جوڑ میں درد ہو یا چوٹ کے بعد جوڑ ہلانا مشکل ہو۔ شدید چوٹ یا اچانک بہت تیز درد میں 1122 پر کال کریں۔
04کیا میں ہلدی یا کسی اور چیز کے کیپسول لے سکتا ہوں؟
یہ فیصلہ ڈاکٹر کے ساتھ کریں۔ سپلیمنٹس کی مقدار کھانے سے بہت مختلف ہو سکتی ہے اور کچھ دواؤں کے ساتھ ان کا اثر بدل سکتا ہے۔
05کیا جوڑوں کے لیے دودھ اور دہی چھوڑ دینا بہتر ہے؟
عام طور پر ایسی کوئی وجہ نہیں؛ یہ کیلشیم اور پروٹین کے اچھے ذرائع ہیں۔ اگر الرجی ہو یا دودھ ہضم نہ ہو تو ڈاکٹر سے متبادل پوچھیں۔
06وزن کا جوڑوں سے کیا تعلق ہے؟
جسم کا زیادہ وزن گھٹنوں اور کولہوں پر بوجھ بڑھاتا ہے۔ وزن آہستہ آہستہ اور متوازن طریقے سے کم کرنا بہتر ہے؛ کوئی سخت ڈائٹ شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
07کیا تیل بالکل بند کر دینا چاہیے؟
نہیں، جسم کو کچھ چکنائی کی ضرورت ہے۔ بس مقدار کم رکھیں، بار بار تلنے کے لیے استعمال شدہ تیل دوبارہ نہ لیں، اور تلی ہوئی چیزیں کبھی کبھار۔
08مجھے شوگر ہے، کیا دلیہ اور پھل ٹھیک ہیں؟
ثابت اناج اور پھل متوازن غذا کا حصہ ہیں، مگر مقدار اور وقت آپ کے علاج پر منحصر ہے۔ اپنے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے اپنی پلیٹ طے کریں۔
09رمضان میں ان ترکیبوں کو کیسے استعمال کروں؟
سحری میں دلیہ، انڈا یا دہی، اور افطار میں چنا چاٹ اور پھل اچھی مثالیں ہیں؛ پکوڑے اور سموسے کم۔ اگر کوئی بیماری ہو یا دوا لیتے ہوں تو روزے سے پہلے ڈاکٹر سے بات کریں۔
10میں گوشت نہیں کھاتا، پروٹین کہاں سے لوں؟
دالیں، چنے، لوبیا، دہی، پنیر، دودھ، انڈے (اگر کھاتے ہوں) اور میوے۔ دن بھر میں الگ الگ ذرائع ملانا اچھا رہتا ہے۔
ترکیب کے بعد اگلا صفحہ: پکاتے ہوئے جسم کیسے حرکت کرتا ہے اور باورچی خانہ اس کے لیے کیسے آرام دہ بنے۔
Hasuwul پر لکھی ہر ترکیب اور ہر بات عمومی معلومات اور صحت مند طرزِ زندگی سے آگاہی کے لیے ہے۔ یہاں گھریلو کھانوں، متوازن غذا اور باورچی خانے کی روزمرہ حرکت کو جوڑوں کے آرام کے تناظر میں سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ مواد جوڑوں کے درد، گٹھیا (آرتھرائٹس)، ہڈیوں کی کمزوری یا کسی اور بیماری کی تشخیص اور علاج کا متبادل نہیں۔ کسی کھانے یا ترکیب سے کسی خاص نتیجے کی ضمانت نہیں، اور ہر جسم کا ردِعمل الگ ہوتا ہے۔ درد، سوجن، اکڑاؤ یا کوئی تکلیف جو دور نہ ہو، اس کے لیے کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کیجیے۔